ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / 20 کروڑ کے بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیر,کے آر مارکیٹ سے کچرا اٹھانے سے پروسیسنگ یونٹ کا انکار

20 کروڑ کے بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیر,کے آر مارکیٹ سے کچرا اٹھانے سے پروسیسنگ یونٹ کا انکار

Tue, 03 Jan 2017 22:04:31    S.O. News Service

بنگلور:3/جنوری(ایس او نیوز)شہر میں گندگی کی نکاسی کے بعد اس کی پروسیسنگ کیلئے مختلف کمپنیوں کو بی بی ایم پی کی طرف سے ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ ایک طرف شہر میں ابھی گندگی کی نکاسی کا مسئلہ بھی پورے طور پر حل نہیں ہوپایا ہے کہ اس کی پروسیسنگ کا ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔بتایاجاتاہے کہ شہر کے کے آر مارکیٹ اور دیگر مقامات سے اٹھائے جانے والے کچرے کی پروسیسنگ کیلئے ذمہ دار اشوک بائیو گرین نامی کمپنی نے کل سے ان مقامات سے کچرا اٹھانے اور ان کی پروسیسنگ کرنے کا کام روک دینے کا اعلان کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بی بی ایم پی کی طرف سے واجب الادا 20کروڑ روپیوں کی رقم کمپنی کو نہیں دی گئی۔ بی بی ایم پی کے ٹال مٹول پر احتجاج کرتے ہوئے کمپنی نے اعلان کیا کہ کل سے وہ رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے گندگی کی پروسیسنگ کا سلسلہ منقطع کردے گی، اس کمپنی کے ذمہ داروں نے بتایاکہ بی بی ایم پی کی طرف سے رقم ادا نہ کئے جانے کے سبب کمپنی بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، لیکن بی بی ایم پی کی طرف سے رقم کی ادائیگی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ بی بی ایم پی کی لاپرواہی کے سبب کمپنی نے اپنے ملازمین کو تنخواہیں تک ادا نہیں کی ہے، جس کے سبب کل ہی سے اس پروسیسنگ یونٹ کو بند کردیا جائے گا۔ کے آر مارکیٹ سمیت تمام دس یونیٹوں کے ملازمین اس کمپنی میں کام کرتے ہیں اور یہ اپنا کام روک کر تنخواہ کی ادائیگی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کمپنی کے ذمہ داروں نے بتایاکہ ان کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں گندگی کے پروسیسنگ کے سلسلے کو آگے بڑھانا مشکل ہوجائے گا۔ ریاستی حکومت اور بی بی ایم پی نے اگر کل تک بقیہ رقم ادا کرنے کیلئے مناسب کارروائی نہیں کی تو کل ہی سے یہ کمپنی گندگی کی نکاسی کا سلسلہ روک دے گی۔ کمپنی کے ذمہ داروں نے بتایاکہ کے آر مارکیٹ اور دیگر علاقوں میں اگر گندگی کی نکاسی کا سلسلہ روک دیا گیا تو یہاں پر روزانہ نکلنے والے سینکڑوں ٹن کچرے کے ڈھیر لگ جائیں گے اور اس کا عوامی صحت پر کافی مضر اثر مرتب ہوگا۔ کمپنی کے ذمہ داروں نے کہاکہ فوری طور پر بی بی ایم پی اور ریاستی حکومت اس معاملے کو سلجھانے کی طرف توجہ دیں۔


Share: